سائبر سیکیورٹی کے خطرات: فشنگ، رینسم ویئر اور آن لائن فراڈ سے بچنے کے طریقے

|

انٹرنیٹ نے زندگی کو آسان بنایا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی جرائم پیشہ عناصر کو بھی نئے ہتھیار مل گئے ہیں۔ آج سب سے عام خطرہ فشنگ ہے، جس میں جعلی ای میل، ایس ایم ایس یا واٹس ایپ پیغام کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دے کر ان کے پاس ورڈ، بینک کی تفصیلات یا او ٹی پی حاصل کیے جاتے ہیں۔ اکثر یہ پیغامات کسی بینک، کورئیر کمپنی یا انعامی اسکیم کے نام سے بھیجے جاتے ہیں۔nnرینسم ویئر ایک اور خطرناک حملہ ہے جس میں کمپیوٹر کا تمام ڈیٹا لاک کر دیا جاتا ہے اور اسے واپس کھولنے کے بدلے تاوان مانگا جاتا ہے۔ ہسپتال، کاروباری ادارے اور سرکاری دفاتر اس کا خاص نشانہ بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی ہیکنگ، جعلی آن لائن دکانیں اور شناخت کی چوری بھی عام ہو چکی ہیں، جن سے مالی اور ساکھ دونوں کا نقصان ہوتا ہے۔nnان خطرات سے بچنے کے لیے کبھی بھی کسی کو اپنا او ٹی پی یا پن کوڈ نہ بتائیں، کیونکہ کوئی بینک فون پر یہ معلومات نہیں مانگتا۔ مشکوک لنکس پر کلک کرنے سے پہلے بھیجنے والے کی تصدیق کریں، تمام اکاؤنٹس پر دو مرحلوں کی تصدیق فعال کریں اور اپنے اہم ڈیٹا کا باقاعدہ بیک اپ رکھیں۔ کسی فراڈ کی صورت میں فوری طور پر اپنے بینک اور متعلقہ سائبر کرائم حکام کو اطلاع دیں۔