ایران نے ممکنہ امریکی حملے کی صورت میں سخت جوابی کارروائی کی تیاری کرلی

ایران نے ممکنہ امریکی فوجی حملے کی صورت میں پہلے سے زیادہ وسیع جوابی کارروائی کی تیاری شروع کردی ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایرانی حکام خطے میں امریکی حمایت یافتہ مقامات کو بھی ممکنہ ردعمل کے دائرے میں شامل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ دوسری جانب سفارتی رابطے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، تاہم فریقین کے درمیان بنیادی معاملات پر شدید اختلاف موجود ہے۔

دبئی: ایران اور امریکا کے درمیان جاری شدید کشیدگی کے دوران تہران نے ممکنہ نئے امریکی فوجی حملے کی صورت میں سخت جوابی کارروائی کی تیاری شروع کردی ہے، جبکہ سفارتی کوششیں بھی محدود سطح پر جاری ہیں۔

رائٹرز کے مطابق ایرانی حکام اس امکان پر غور کر رہے ہیں کہ اگر امریکا دوبارہ بڑے پیمانے پر حملہ کرتا ہے تو ایران کا جواب صرف براہ راست امریکی اہداف تک محدود نہ رہے بلکہ خطے میں امریکی حمایت یافتہ مقامات اور دیگر متعلقہ اہداف تک بھی پھیل سکتا ہے۔

یہ صورتحال کئی ماہ سے جاری ایران-امریکا کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق رواں تنازع کا آغاز 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ہوا تھا، جبکہ 8 اپریل کو جنگ بندی ہوئی، لیکن یہ کشیدگی مستقل طور پر ختم نہیں ہوسکی۔

ایران نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جنگ ختم کرنے اور پابندیاں اٹھانے سے متعلق تجاویز بھی پیش کیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی شرائط قبول نہیں کیں۔ قطر کی ثالثی میں بالواسطہ رابطے جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔ تہران کی جانب سے پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں اور تیل سے متعلق رعایتوں جیسے معاملات کو مذاکرات سے پہلے اہم قرار دیا گیا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر نے ایران پر دوبارہ حملوں کا امکان ظاہر کیا ہے، جبکہ واشنگٹن نے ایران کے بعض بڑے صنعتی اداروں پر نئی پابندیاں بھی عائد کی ہیں۔

ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی کے خدشات نے مشرق وسطیٰ کے توانائی اور مالیاتی بازاروں کو بھی متاثر کیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق خلیجی مارکیٹوں میں سرمایہ کاروں کی تشویش بڑھی اور متحدہ عرب امارات کی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔

اس صورتحال میں آبنائے ہرمز خصوصی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے۔ کسی نئی فوجی کشیدگی کی صورت میں تیل، شپنگ اور عالمی معیشت پر اضافی دباؤ پیدا ہوسکتا ہے۔