جیسے جیسے سرکاری اور نجی ادارے اپنا نظام ڈیجیٹل بنا رہے ہیں، ویسے ویسے سائبر حملوں کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔ بینکوں، ٹیلی کام کمپنیوں اور سرکاری ویب سائٹس پر حملے اب کوئی غیر معمولی بات نہیں رہے۔ رینسم ویئر، فشنگ ای میلز اور ڈیٹا کی چوری جیسے خطرات نہ صرف مالی نقصان کا باعث بنتے ہیں بلکہ عوام کا اعتماد بھی مجروح کرتے ہیں۔nnپاکستان میں سب سے بڑا چیلنج ماہر افرادی قوت کی کمی ہے۔ بہت سے ادارے سیکیورٹی کو اضافی خرچ سمجھتے ہیں اور اس وقت تک سنجیدہ نہیں ہوتے جب تک کوئی بڑا نقصان نہ ہو جائے۔ اس کے علاوہ پرانے سافٹ ویئر کا استعمال، کمزور پاس ورڈز اور ملازمین کی ناکافی تربیت بھی حملہ آوروں کے لیے آسان راستے کھول دیتی ہے۔nnان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اداروں کو باقاعدہ سیکیورٹی آڈٹ، ڈیٹا کا محفوظ بیک اپ اور واقعات سے نمٹنے کا واضح منصوبہ تیار رکھنا چاہیے۔ جامعات میں سائبر سیکیورٹی کے خصوصی پروگرام شروع کرنا اور نوجوانوں کو سرٹیفیکیشنز کی ترغیب دینا اس شعبے میں ماہرین کی کمی پوری کر سکتا ہے، جو قومی سلامتی کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ سائبر سیکیورٹی صرف تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ہر ملازم اور ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔




